اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمنی میں ایران کے سفیر مجید نیلی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے جرمنی کے سیاسی اور میڈیا حلقوں کو ارسال کیے گئے ایک خط میں واضح کیا ہے کہ 28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے پُرامن عوامی احتجاج، جو معاشی مسائل اور ظالمانہ و غیرقانونی پابندیوں کے باعث سامنے آئے تھے، 8 سے 10 جنوری 2026 کے دوران مسلح اور دہشت گرد عناصر کی مداخلت کے باعث پرتشدد رخ اختیار کر گئے۔
انہوں نے کہا کہ زمینی شواہد اور بعض مغربی اور اسرائیلی جنگ پسند حلقوں کے میڈیا بیانات ان واقعات میں صہیونی رژیم اور امریکا کے تخریبی کردار کی تصدیق کرتے ہیں، وہی قوتیں جنہوں نے جون 2025 میں بغیر کسی جواز کے ایران پر 12 روزہ جارحیت مسلط کی تھی۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ بہت سے مبصرین کے مطابق 8 سے 10 جنوری کے دنوں کو 12 روزہ جارحیت کا ’’تیرہواں دن‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے۔
مجید نیلی کا کہنا تھا کہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ جون میں ایران پر ہونے والی جارحیت کے دوران جن فریقوں نے خاموشی اختیار کی یا عملی طور پر حملہ آوروں کا ساتھ دیا، وہی آج ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایران کے خلاف الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران اس وقت معاشی دہشت گردی اور دہشت گردانہ کارروائیوں دونوں کا نشانہ ہے، تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جنگ کے حامی عناصر اس مرتبہ بھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ